میں آج سوچ رہی تھی کہ Focus اتنا مشکل کیوں ہوگیا ہے؟
ہم ایک کام شروع کرتے ہیں، چند منٹ بعد موبائل دیکھ لیتے ہیں، پھر کسی دوسرے کام کا خیال آتا ہے، پھر ذہن کسی اور طرف چلا جاتا ہے۔ ہم Multitasking کو اپنی مصروفیت سمجھتے ہیں، حالانکہ بسا اوقات ہمارا ذہن صرف ایک کام سے دوسرے کام تک بھٹک رہا ہوتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ کسی کام کو شروع کرنے سے پہلے اس کے مقصد اور نتیجے کو اپنے ذہن میں واضح کریں۔ جب انسان کو معلوم ہو کہ وہ کیا حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کی توجہ زیادہ یکسو ہوجاتی ہے۔
تب میرے دل میں ایک خیال آیا:
کیا اسلام نے ہمیں یہ کام پہلے ہی نہیں سکھایا؟
ذرا سوچیے…
میں قرآن کھولنے لگوں تو صرف یہ نہ سوچوں کہ “مجھے آج اتنے صفحات پڑھنے ہیں۔”
بلکہ اپنے دل میں یہ تصور تازہ کروں کہ میں اللہ کا کلام پڑھ رہی ہوں۔ فرشتے ایسے مجالس کو گھیر لیتے ہیں، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور سکینہ نازل ہوتی ہے۔اور ہر ایک لفظ پہ دس دس نیکیاں میرے لئے لکھی جارہی ہیں۔
میں علم حاصل کرنے بیٹھوں تو صرف یہ نہ سوچوں کہ “مجھے یہ سبق مکمل کرنا ہے۔”
بلکہ یاد کروں کہ علم کی طلب میں گھر سے نکلنے والے کے لیے فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں۔
میں ذکر کے لیے بیٹھوں تو سوچوں کہ شاید یہ وہ مجلس ہے جسے فرشتے تلاش کرتے پھرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کا ذکر فرماتے ہیں۔
میں نماز کے لیے کھڑی ہوں تو خود سے کہوں:
میں صرف ایک فرض ادا کرنے نہیں کھڑی، میں اپنے رب کے سامنے کھڑی ہوں۔اور وہ میری جانب متوجہ ہے۔
میں والدین کی خدمت کروں تو سوچوں:
یہ صرف ایک گھریلو ذمہ داری نہیں، یہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا موقع ہے۔یہ ایک ایک نظر پہ مقبول حج کا موقعہ ہے، یہ جنت کا دروازہ ہیں۔
میں اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھوں تو یہ نہ سوچوں کہ “میرا وقت ضائع ہو رہا ہے۔”
بلکہ سوچوں:
میں ایک انسان کی شخصیت تعمیر کر رہی ہوں۔ شاید میری یہ ایک توجہ اس بچے کی پوری زندگی بدل دے۔میں ایک سنت زندہ کر رہی ہوں۔
میں اپنے شوہر کے ساتھ مسکرا کر بات کروں تو سوچوں:
یہ بھی صدقہ ہے، یہ بھی عبادت ہے۔میرے لئے اجر لکھا جارہا ہے۔
میں گھر کا کام کروں تو سوچوں:
اگر میری نیت درست ہے تو یہی معمولی سا کام بھی اللہ کے ہاں اجر کا سبب بن سکتا ہے۔
اور جب میں کوئی گناہ چھوڑوں تو صرف یہ نہ سوچوں کہ “مجھے یہ نہیں کرنا۔”
بلکہ اپنے سامنے آخرت کو رکھوں:
مجھے اللہ کی رضا چاہیے۔ مجھے اس کی ناراضی سے بچنا ہے۔ مجھے جنت چاہیے۔مجھے اپنے رب کا دیدار چاہئے۔
تب شاید Focus صرف ایک productivity skill نہیں رہتا۔
تب میرا کام “task” نہیں رہتا، مقصد بن جاتا ہے۔
اور میری توجہ صرف وقت بچانے کے لیے نہیں ہوتی، بلکہ وقت کو اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرنے کے لیے ہوتی ہے۔
شاید یہی اسلام کی خوبصورتی ہے۔
وہ ہمیں صرف یہ نہیں بتاتا کہ کیا کرنا ہے؛ وہ ہمارے دل کے سامنے یہ بھی رکھ دیتا ہے کہ اس عمل کے پیچھے کیا ہے، اس کا اجر کیا ہے، اس کی قدر کیا ہے اور اس کا انجام کیا ہوسکتا ہے۔
تو آج جب میں کوئی کام شروع کروں گی، میں خود سے ایک سوال ضرور کروں گی:
“اگر میں اس کام کے پیچھے چھپی ہوئی اللہ کی رضا اور اس کے اجر کو اپنے سامنے دیکھ سکوں، تو کیا میں اسے زیادہ توجہ، محبت اور اخلاص سے نہ کروں گی؟”
شاید Focus کا ایک خوبصورت راز یہی ہے:
کام پر توجہ مرکوز کرنے سے پہلے، اپنے دل کو اس کام کے مقصد سے جوڑ لیجیے۔
پھر کام صرف کام نہیں رہتا…
وہ عبادت بن جاتا ہے۔
اور زندگی کو مقصد حیات مل جاتا ہے۔