رات کا وقت تھا۔
عائشہ امی جان کے پاس آ کر بیٹھ گئی اور ان کا دوپٹہ آہستہ سے کھینچنے لگی۔
“امی جان! آج کی کہانی میں تھوڑی بہادری ہو، تھوڑا دشمن کا مقابلہ، اور تھوڑا ایمان کا مزہ!”
حسن نے بستر پر لیٹتے ہوئے شرارت سے کہا:
“یعنی جنگ ہو، لیکن صرف کہانی میں!”
خدیجہ مسکرا دیں اور بچوں کے درمیان بیٹھ گئیں۔
“اچھا بھئی! تو آج میں تمہیں ایک ایسی خندق کے سپاہیوں کی کہانی سناتی ہوں، جنہوں نے صرف تلوار سے نہیں، بلکہ ایمان، اتحاد، محنت، دعا اور اللہ پر بھروسے سے دشمن کا مقابلہ کیا۔”
تینوں بچے فوراً سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔
خدیجہ نے کہنا شروع کیا:
“یہ اس وقت کی بات ہے جب مدینہ منورہ پر ایک بہت بڑا خطرہ منڈلا رہا تھا۔مختلف قبائل کے بہت سے لوگ مسلمانوں کے مقابلے کے لیے جمع ہو چکے تھے۔ دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی اور مدینہ پر حملے کا خطرہ سامنے تھا۔
نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ فرمایا۔اسی موقع پر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی تجویز پیش کی جو عربوں کے لیے نئی تھی۔
انہوں نے عرض کیا:
‘یا رسول اللہ ﷺ! فارس میں جب ہمیں کسی بڑے لشکر کا خطرہ ہوتا تو ہم شہر کے گرد خندق کھود لیا کرتے تھے۔’
نبی کریم ﷺ نے اس تجویز کو قبول فرمایا۔
اور پھر…
مدینہ کے ایک حصے کے گرد خندق کھودنے کا کام شروع ہوگیا۔”
علی کی آنکھیں پھیل گئیں۔
“امی! اتنی بڑی خندق کون کھودتا تھا؟”
خدیجہ نے مسکرا کر کہا:
“صحابہ کرام رضی اللہ عنہم۔
لیکن صرف صحابہ ہی نہیں…
نبی کریم ﷺ بھی ان کے ساتھ خندق کھودتے تھے۔”
“نبی ﷺ بھی؟”
عائشہ حیرت سے بولی۔
“جی بیٹی!
آپ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ کام میں شریک ہوتے، مٹی اٹھاتے اور ان کے حوصلے بلند کرتے۔
سوچو، مدینہ کی حفاظت کی ذمہ داری سامنے تھی، سردی کا موسم تھا، کھانے کی کمی تھی، جسم تھکے ہوئے تھے…
لیکن دل اللہ پر قائم تھے۔”
حسن نے پوچھا:
“امی! کیا انہیں بھوک نہیں لگتی تھی؟”
خدیجہ کی آواز میں نرمی آگئی۔
“بہت زیادہ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خندق کھودتے ہوئے صحابہ کو سخت بھوک کا سامنا تھا۔
اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر نبی کریم ﷺ کی بھوک کی شدت دیکھی تو آپ ﷺ کے پیٹ پر بندھا ہوا پتھر بھی دیکھا۔
یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔
مگر صحابہ جانتے تھے کہ صرف مشکل دیکھ کر بیٹھ جانا حل نہیں ہوتا۔
انہیں اپنا کام بھی کرنا تھا اور اللہ سے مدد بھی مانگنی تھی۔”
عائشہ نے آہستہ سے پوچھا:
“امی! کیا وہ ڈرے نہیں تھے؟”
خدیجہ نے محبت سے جواب دیا:
“بہادری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کو کبھی خوف محسوس ہی نہ ہو۔بہادری یہ ہے کہ خوف کے باوجود انسان صحیح راستے پر قائم رہے۔
اسی لیے خندق کے سپاہیوں کے پاس ایک طرف کدال تھی…
اور دوسری طرف دعا۔
ان کے ہاتھ اسباب اختیار کر رہے تھے…
اور ان کے دل اللہ سے مدد مانگ رہے تھے۔”
خدیجہ نے بچوں کی طرف دیکھا۔
“اور جب وہ خندق کھودتے تھے تو نبی کریم ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم یہ اشعار پڑھتے تھے:
اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا
وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا
فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا
وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا
إِنَّ الْأُلَى قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا
وَإِنْ أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا، أَبَيْنَا
یعنی:
‘اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔
پس ہم پر سکینت نازل فرما اور جب ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو تو ہمارے قدم جما دے۔
بے شک ان لوگوں نے ہم پر زیادتی کی ہے، اور اگر وہ ہمیں فتنے میں مبتلا کرنا چاہیں تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔'”
کمرے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔
حسن نے آہستہ سے کہا:
“امی… وہ کام بھی کر رہے تھے اور دعا بھی؟”
خدیجہ مسکرائیں۔
“بالکل۔
اور یہی تو آج کی کہانی کا سب سے خوبصورت سبق ہے۔
اسلام ہمیں صرف دعا کرنا نہیں سکھاتا۔
اسلام ہمیں اسباب اختیار کرنا بھی سکھاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے خندق کھودنے کا فیصلہ کیا۔
صحابہ نے محنت کی۔
سب نے مل کر کام کیا۔
پھر اپنے رب سے مدد مانگی۔
یعنی زبانِ حال سے جیسے کہہ رہے ہوں:
‘یا اللہ! ہم نے اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کر لی، اب کامیابی تیرے ہاتھ میں ہے۔'”
علی نے فوراً کہا:
“تو امی! اگر امتحان ہو تو پہلے پڑھنا بھی ہے اور پھر دعا بھی کرنی ہے؟”
خدیجہ ہنس دیں۔
“بالکل!
صرف یہ دعا کرنا کہ ‘یا اللہ! مجھے اچھے نمبر دے’ اور کتاب کھولنا ہی نہ…
یہ خندق کے سپاہیوں والا طریقہ نہیں ہے!”
تینوں بچے ہنسنے لگے۔
خدیجہ نے کہا:
“خندق ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ بڑی مشکل اکیلے نہیں، مل کر آسان ہوتی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے تھے۔
نبی کریم ﷺ ان کے درمیان موجود تھے۔
سب نے اپنا اپنا حصہ ڈالا۔
کسی نے مشورہ دیا، کسی نے خندق کھودی، کسی نے مٹی اٹھائی، کسی نے حوصلہ دیا…
اور سب نے اللہ پر بھروسہ کیا۔”
عائشہ نے پوچھا:
“امی! تو کیا ہم بھی خندق کے سپاہیوں جیسے بن سکتے ہیں؟”
خدیجہ نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔
“بیٹی، جب آپ کو کوئی مشکل کام ملے اور آپ ہمت نہ ہاریں…
جب پڑھائی مشکل لگے مگر آپ کوشش جاری رکھیں…
جب کوئی غلط کام کرنے پر مجبور کرے اور آپ ایمان کی وجہ سے انکار کر دیں…
جب گھر میں سب تھکے ہوں اور آپ مدد کے لیے آگے بڑھیں…
جب پریشانی میں گھبرا جانے کے بجائے نماز پڑھیں اور اللہ سے مدد مانگیں…
تو آپ بھی خندق کے سپاہیوں سے سبق لے رہی ہوتی ہیں۔”
حسن نے جوش سے کہا:
“اور جب میں ڈروں تو؟”
خدیجہ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“تو ڈر کو اپنے دل کا بادشاہ نہ بننے دینا۔
اللہ کو یاد کرنا۔
اپنا جائز کام کرنا۔
اور پھر نتیجہ اللہ کے سپرد کر دینا۔
کیونکہ مومن اسباب اختیار کرتا ہے، مگر دل کا بھروسہ اسباب پر نہیں، اللہ پر رکھتا ہے۔”
علی نے کہا:
“امی! آج کی کہانی میں مجھے سب سے اچھی بات یہی لگی کہ نبی ﷺ خود بھی کام کر رہے تھے۔”
خدیجہ نے مسکرا کر کہا:
“ہاں بیٹا۔
ایک اچھے رہنما کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ وہ صرف دوسروں کو کام نہیں کہتا، بلکہ ضرورت پڑے تو خود بھی ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کے لیے صرف رہنما نہیں تھے، ان کے غم اور مشقت میں شریک بھی تھے۔”
عائشہ نے آہستہ سے کہا:
“تو خندق کے سپاہی ہمیں کیا سکھاتے ہیں؟”
خدیجہ نے انگلیوں پر گنتے ہوئے کہا:
“سب سے پہلے، مشکل وقت میں اللہ کو یاد کرنا۔
دوسرا، دعا کے ساتھ جائز اسباب اختیار کرنا۔
تیسرا، اکیلے گھبرانے کے بجائے مل جل کر مسئلے کا مقابلہ کرنا۔
چوتھا، مشکل حالات میں نماز اور ایمان کو مضبوطی سے تھامے رکھنا۔
اور پانچواں…
کوشش کرنے کے بعد نتیجہ اللہ کے سپرد کر دینا۔
یاد رکھو، بچوں!
ہماری ذمہ داری کوشش ہے۔
فتح اور کامیابی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔”
تینوں بچے خاموشی سے سنتے رہے۔
پھر عائشہ نے امی جان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“امی! آج دعا ہم سب مل کر کریں گے۔”
خدیجہ نے ہاتھ اٹھائے۔
بچے بھی اپنے ننھے ننھے ہاتھ دعا کے لیے اٹھا کر بیٹھ گئے۔
“یا اللہ!
ہمیں خندق کے سپاہیوں جیسا مضبوط ایمان عطا فرما۔
مشکل وقت میں ہمیں گھبرا کر ٹوٹنے کے بجائے آپ کو یاد کرنے کی توفیق دے۔
ہمیں دعا کے ساتھ جائز اسباب اختیار کرنے والا بنا۔
ہمیں اپنے کام میں محنت، دوسروں کے ساتھ تعاون اور مشکل وقت میں حوصلہ عطا فرما۔
یا اللہ!
ہمیں ایسا دل دے جو اسباب اختیار کرے، مگر بھروسہ صرف تجھ پر رکھے۔
جب ہم اپنی پوری کوشش کر لیں تو ہمارے لیے اپنی مدد کے دروازے کھول دے۔
ہمیں نماز، صبر، شکر اور توکل کی دولت عطا فرما۔
اور جب زندگی کی کوئی خندق ہمارے سامنے آئے تو ہمیں ایمان، حکمت، اتحاد اور حوصلے کے ساتھ اسے عبور کرنے کی توفیق دے۔
آمین یا رب العالمین